دائی کے سَر پان پُھول
غریب آدمی کے سر پر تہمت تُھپ جاتی ہے، کمزور اور غریب پر آسانی سے الزام لگا دیا جاتا ہے.
ڈائن کو بھی داماد پیارا
اپنی بیٹی کی وجہ سے ڈائن کو بھی اپنا داماد پیارا ہوتا ہے، مطلب یہ ہے کہ ماں کو لڑکی بہت پیاری ہوتی ہے
دادا لے پوتا بَرْتے
یعنی دادا کے زمانے کی چیز کا پوتے کی نسل تک اِستعمال میں آنا، پائیدار چیز کی نسبت کہتے ہیں
داغ لگائے لنگوٹِیا یار
پُرانے دوست ہی دغا دیتے ہیں، وہ تمہاری حقیقیت کو جانتے ہیں، تم اگر ان کو کوئی تکلیف دوگے تو وہ تمہارا راز کھول دیں گے
داہْنے ہاتھ کا کھایا حَرام ہے
قسم دلانے کے لیے، یعنی اگر تُم اس بات کو نہ کرو تُم نے جو کچھ اپنے سیدھے ہاتھ سے کھایا یا کھاؤگے وہ حرام میں داخل ہوگا
دام آوے کام
روپیہ بچایا جائے تو وقت پر کام آتا ہے، روپیہ بہت فائدہ مند ہوتا ہے
دارُوئے غَضَب خاموشی
غُصّے کا عِلاج چُپ رہنا ہے اگر غُصّے ہونے والے کو جواب نہ دیا جائے تو اس کا غصّہ ٹھنڈا پڑ جاتا ہے .
داشْتَہ آبَد بَکار
محفوظ رکھی ہوئی چیز (جِس کی فوری ضرورت نہ ہو) کبھی نہ کبھی کام آہی جاتی ہے
داسی کرم کمھار سے نیچے
نوکر کا کام کمھار کے کام سے بھی کم تر یعنی سب سے ادنیٰ کام ہے، نوکری کا پیشہ سب سے برا ہوتا ہے
دَہَن سَگ بَہ لُقمَہ دوخْتَہ بِہ
فارسی کہاوت اردو میں مستعمل ، نوالہ دے کر کُتّے کا من٘ھ بند کر دینا بہتر ہے (اس محل پر مستعمل ہے جب کسی شخص کو اس کی ایذا سے بچنے کے لئے کچھ دیں)
دَہ رَواں ، دَہ دَواں ، دَہ پَرَان
” ماہ رمضان کے دن جلد جلد گُزر جانے کا ذکر ان الفاظ میں کیا جاتا ہے ، یعنی ابتدائی دس دن نسبۃً رواں (معمولی چال) کے ہوتے ہیں ، دوسرے دس دن دواں (یعنی دوڑتے ہوئے) اور تیسرا عشرہ پران (اُڑتے ہوئے) یعنی بڑی تیزی سے گُزر جَاتا ہے “
دَم ہے تو کیا غَم ہے
زندگی ہے تو کوئی پروا نہیں، زندگی ہو تو مشکلات پر قابو پایا جا سکتا ہے، جان ہے تو جہان ہے
دَم ہَزار دَم
گھڑی بھر میں موت زندگی سے بدل جاتی ہے، دیکھتے ہی دیکھتے جان بلب مریض شفایاب ہو جاتا ہے، (مریض اور اس کے تیمارداروں کی ڈھارس بن٘دھانے کے لیے مستعمل)
دَم کا دمامہ ہے
زندگی کے ساتھ دنیا کی رونق ہے اور اس کے ساتھ ہی سب شان و شوکت یا بکھیڑے ہیں
ڈَر دو طَرَف ہوتا ہے
دو دشمنوں میں ڈر دونوں طرف رہتا ہے یعنی جتنا ایک شخص دوسرے سے ڈرتا ہے اتنا ہی دوسرا بھی اس سے خوف کھاتا ہے
ڈَسا پانی نَہِیں مانگْتا
ایسے موقع پر بولتے ہیں جب کسی شخص کا ظُلم و سِتم یا وار جان لیوا ثابت ہوتا ہے ضرب ایسی کاری ہوتی ہے کہ مضروب اُسی وقت دم توڑ دیتا ہے.
دَسْت بَہ کار و دِل بَہ یار
ہاتھ کام میں اور دل دوست میں ، جب کوئی شخص ہاتھ سے کچھ کام کررہا ہو مگر اس کی طرف متوجہ نہ ہو دل میں کچھ اور سوچ رہا ہو .
دَسْت شِکَسْتَہ وَبالِ کَرْدَن
ٹوٹا ہواَ ہاتھ گردن کے لیے وبال ہے یعنی جب تک کسی چیز سے ہمارا کام نکلتا رہتا ہے اس یوقت تک ہم اس کی قدر کرتے ہیں اور وہ چیز ہم کو پیاری ہوتی ہے مگر جب وہ ہمارے کام کی نہیں رہتی تو اس کو اپنے پاس رکھنا بھی ہمیں گراں گُزرتا ہے .
دَسْتار اَور گُفتار اَپْنی ہی کام آتی ہے
اپنے ہاتھ سے اپنی پگڑی (دوپٹا) باندھنا چاہیے اور اپنی بات خود ہی کہنا مناسب ہے دوسے کے ذریعے دونوں ٹھیک نہیں کیوں کہ اپنی بات یا مطلب کو جیسے خود کہہ سکتا ہے اس طرح دوسرے سے ادا نہیں ہو سکتا .
دَوڑ چَلے نَہ گِر پَڑے
جو شخص اپنی بساط سے بڑھ کر کام کرے نقصان اٹھاتا ہے، جلدی سے نقصان ہوتا ہے، میانہ روی اختیار کرنی چاہیے
دولت اندھی ہوتی ہے
دولت مند آدمی غریب کا خیال نہیں کرتا، دولت مند دوستوں کو دیکھ کر نظر چرا لیتا ہے
دیکھے راہی بولے سپاہی
اگر کوئی معاملہ ہو تو راہرو دخل نہیں دیتا البتہ سپاہی اس میں دخل دیتا ہے یعنی سامنے ہمت والا ہی آتا ہے
دیکھئے قَصائِی کِی نَظِر کھِلائیے سُونے کا نِوالَہ
کسی کو اپنی اولاد کی تربیت کے لیے تنبیہ کے طور پر بولا جاتا ہے، ناز برداری کرنا مگر حد سے نہ گزرنے دینا، مہربانی کرنا مگر رعب قائم رکھنا، لاڈ پیار کرنا مگر گستاخ نہ ہونے دینا، ہر طرح کے عیش و آرام کے ساتھ تربیت کرنا
دینا تھوڑا، دلاسا بہت
قول کچھ اور فعل کچھ، بات زیادہ کرنا مگر وقت آنے پر مدد کم کرنا، وعدے بہت کرنا لیکن دینا کم
دیرآیَد دُرَسْت آیَد
فارسی کہاوت اُردو میں مستمعل، جو کام دیر میں ہوتا ہے وہی ٹِھیک ہوتا ہے، جو نتائج تاخیر سے نکلیں وہی اچھے ہوں گے
دیس چوری ، پَرْدیس بِھیک
وطن سے باہر پست سے پست تر پیشہ اختیار کرنے میں کوئی شرم و عار نہیں مگر وطن میں وہی کام چُھپ کر کرنا ہوتا ہے (حفظِ آبرو کے لیے وطن چھوڑنے کے موقع پر مستعمل ہے).
دیسی گھوڑی، مرہٹی چال
اپنی رہن سہن یا زبان کو چھوڑ کر جب کوئی دوسرے کے رہن سہن یا زبان کو برتے تب کہتے ہیں
دھاڑ ہے
لوگ متفرق ادھر ادھر کے جمع ہوگئے ہیں کام دینے والے نہیں ، غیر منظم جمعیت ہے ، سلیقے سے کام نہیں کرسکتی ۔
دھان پان پانی کاتَک سواد جانی
دھان، پان اور پانی کا سواد کاتک میں ہی ملتا ہے کیونکہ کاتک میں دھان پک جاتا ہے، پان میں بھی کرکراپن آ جاتا ہے اور پانی بھی صاف شفاف بن جاتا ہے
دَھرتی کی ماں سانجھ
شام زمین کی ماں کی مانند ہے کیونکہ دن بھر کی محنت کے بعد سب کو اسی کی گود میں سکون ملتا ہے
دِھیرا سو گَمْبِھیر
آہستہ گہرا ہوتا ہے ، جو پانی آہستہ چلے وہ گہرا ہوتا ہے ؛ مستقل مزاج آدمی کامیاب رہتا ہے .
دِیدے جُھکْتے ہیں تو گُھٹنوں کی طَرَف
فطرتی اصول کے تحت آنکھیں آگے ہی جُکھتی ہیں ؛ (مجازاً) طرف داری اپنوں ہی کی ہوتی ہے ، اپنوں کی مروت آ ہی جاتی ہے (جانب داری ، پاس داری برتنے کے موقع پر مستعمل ہے).
دِیوار کے بھی کان ہَیں
دیوار بھی کان رکھتی ہے، دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں، یہ محاورہ اسوقت بولا جاتا ہے، جب کسی بات یا گفتگو کو بہت خاموشی سے کہنا اور پوشیدہ رکھنا ہوتا ہے، اس کا مطلب ہوتا ہے، ہوشیار رہکر گفتگو کرنا
دِیوار کھائی آلوں نے ، گَھر کھایا سالوں نے
ان سالوں پر طنز ہے جو بہنوئی کے ٹکڑوں پر پڑتے ہیں ؛ دیوار طاقچوں کی وجہ سے کمزور ہو جاتی ہے اور گھر سالوں کی وجہ سے تباہ ہو جاتا ہے ، بیگانوں سے بیگانوں کی نسبت زیاد ضرر پہنچتا ہے.
دِیوارِ ہَم گوش دارَد
فارسی کہاوت اردو میں مستعمل، دیوار بھی کان رکھتی ہے، دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں، یہ محاورہ اسوقت بولا جاتا ہے، جب کسی بات یا گفتگو کو بہت خاموشی سے کہنا اور پوشیدہ رکھنا ہوتا ہے، اس کا مطلب ہوتا ہے، ہوشیار رہکر گفتگو کرنا
دِلّی میں رَہ کَر بھاڑ جھونْکا
نالائق ہی رہا، اچھی جگہ رہ کر بھی لیاقت نہیں پیدا کی، نااہل انسان کبھی ترقی نہیں کر سکتا، داخلی اہلیت کو بہر حال خارجی حالت پر فوقیت ہے جب تک جوہرِ قابل نہ ہو، بہتر سے بہتر ماحول سے منفعت حاصل نہیں کی جا سکتی، بڑے شہر میں رہے اور گھٹیا سے گٹھیا کام کیا
دِن دُونی رات چَوگُنی
روز بروز لمحہ بہ لمحہ زیادہ، بہت زیادہ ترقی یا کمال پر، کسی امر میں کمال ترقی کی نسبت کہتے ہیں
دن کو شرم رات کو بغل گرم
بیوی کے دن میں گھونگھٹ نکالنے پر مذاق میں کہتے ہیں کہ دن کے وقت بیوی شرماتی ہے لیکن رات میں بے تکلف ہو جاتی ہے
دیا ہے تو دیکھ لے
ذو معنی ہے= اگر تو نے دیا ہے تو یہیں ہو گا یا چراغ ہے تو تلا ش کر لے
دِیا ہی آڑے آتا ہے
پُن کرنا وقت بڑے پر کام آتا ہے ، خیرات کی برکت سے بِگڑے کام بن جاتے ہیں اور جان کی سلامتی ہے .
دِیا ٹِھیکْرے میں ، لَگے ساتھ کھانے
غصّے یا حقارت کے موقع پر مستعمل ہے جب کوئی ادنیٰ آدمی اپنے کو بڑوں کے برابر کا سمجھنے لگے یا اپنے کو ان کا ہم پلّہ شمار کرنے لگے ، بڑوں سے برابری کا دعویٰ کرنے لگے اس وقت کہتے ہیں.
دیے تلے اندھیرا
آنکھ پر غفلت کا پردہ، تمول کے سائے میں غریبی، علم کے سائےمیں جہل
دو چُون کے بُرے ہوتے ہیں
ایک کے مقابلے میں دو شخص اگر ضعیف بھی ہوں تب بھی ایک کو اکیلا ہونے کی وجه سے ان سے ڈرنا چاہیے ، دو کمزور بھی مِل کو قوی ہو جاتے ہیں
ڈونڈُو کیا جانے صابُن کا بھاؤ
جس چیز سے کسی کو تعلق نہ ہو وہ اس چیز کی حقیقت کیا بیان کر سکتا ہے، جب کوئی شخص خواہ مخواہ اس امر میں دخل دے جس کا اسے علم نہ ہو تو کہتے ہیں.
ڈوم اور چنا منہ لگا برا
دونوں کا شوق پڑ جائے تو چھوٹتا نہیں کیونکہ ڈوم کی باتیں پر لطف ہوتی ہیں اور چنا لذیذ ہوتا ہے
ڈوم ڈولی، پاٹھک پیادہ
اُلٹا زمانہ ہے ادنیٰ درجے کے لوگ عیش کر رہے ہیں اور اعلیٰ مرتبے کے لوگ تکلیف اُٹھا رہے ہیں
دوسْت کا ڈِگا پانو ، دُشْمَن کا لَگا دانو
دشمن سے ضرور بدلہ لینا چاہیئے، ذراسی چُوک ہو جائے تو دشمن کو قابو مِل جاتا ہے جو شخص طاقت ور دوست رکھنا ہو ار اس کی حمایت میں کمی ہو جائے تو دشمنوں کی جرأت بڑھ جاتی ہے اور وہ قابو پا جاتے ہیں.
دعا اور دوا نِت کرنی چاہیئے
بیماری کی حالت میں خدا سے دعا بھی کرنی چاہیئے اور دوا بھی لینی چاہیئے یعنی دوا کرے تو تندرستی کی دعا بھی مانگنی چاہیئے
دُگْدانا میں دو گَئے ، مایا مِلی نَہ رام
تذبذب میں آدمی نہ اِدھر کا رہتا ہے نہ اُدھر کا یعنی یک سو طبیعت نہیں رکھنے سے خدا اور دولت دونوں میں سے کوئی بھی حاصل نہیں ہوتا ، دو کاموں کا ایک ساعت بندوبست کرنے میں دونوں بِگڑ جاتے ہیں .
دُنْیا با اُمِّید قائِم
دنیا امید پر قائم ہے ، انسان امید کے سہارے زندگی بسر کرتا ہے ، مستقبل سے مایوس نہیں ہونا چاہیئے .
دُنیا بے ثَبات ہے
دنیا مِٹنے والی ہے ، دنیاوی زندگی نا پائدار ہے ، دنیا کو بقا نہیں ، زندگی جلدی ختم ہو جاتی ہے
دنیا مُردہ پسند ہے
مرنے کے بعد دنیا میں قدر ہوتی ہے، زندہ لوگوں کی کوئی قدر نہیں کرتا یعنی زندہ لوگوں کو کوئی نہیں پوچھتا، لوگ مرنے کے بعد تعریف کرتے ہیں
دُشْمَن کَہاں ، بَغَل میں
دشمن کو ساتھ رکھنے یا اس کی پرداخت کرنے کے موقع پر مستعمل ، خود ہی دشمن کی سرپرستی کی جا رہی ہے ، دشمن وہی ہے جس کی پرورش ہو رہی ہے .
دُولہا تو وہ پَر دو شالَہ اَپنا ہے
ظاہری بناؤ سجاؤ کی حقیقت کھولنا ہو تہ یہ مثل بولتے ہیں ، مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کی ساری سج دھج ہمارے ہی طفیل سے ہے پھر بھی ہمیں سے اکڑتا ہے
دوسروں کو نَصِیحت خود مِیاں فَضِیْحَت
تم اور لوگوں سے تو نیکی کرنے کو کہتے ہو اور اپنی خبرتک نہیں لیتے (سورت البقرہ)، دوسروں کو تو نصیحت کرتے ہیں اور خود اس پر عمل نہیں کرتے، خود برے کام کرے اور دوسروں کو نصیحت کرے