اشتقاق
’’فَعَلَ‘‘ سے بننے والے دوسرے الفاظ دیکھیے
اِفْتِعال
تہمت، بہتان، الزام، لانچھن
اِفْعال
(لفظاً) کرنا ، (مراداً) عربی میں ثلاثی مزید مصدروں کے نو اوزان یا بابوں میں سے ایک وزن یا باب (جس کے بہت سے مصدر اردو میں مستعمل ہیں ، جیسے : اقبال ، انکار ، اقرار ، اکرام وغیرہ. اس وزن کے مصدروں کی عام خاصیت 'تعدیہ' ہے).
اِنْفِعال
منفعل ہونے کی کیفیت، شرمندگی، خجالت
فاعِل
کسی کام کا کرنے والا، جس سے کوئی فعل سرزد ہو
فاعِلِیَّت
فاعل ہونا، فاعل ہونے کی حالت یا حیثیت، عملی حالت میں، فاعل سے منسوب
فَعّال
سارے کام انجام دینے والا، کردگار، خلّاق
فَعَّالِیَّت
قوَتِ عمل، سرگرمی، حرکت و عمل سے بھرپور
فِعْل
(علم صرف) وہ کلمہ جس سے کسی کام کا کرنا یا ہونا پایا جائے اور جس میں تینوں زمانوں ماضی حال مستقبل میں سے کوئی ایک زمانہ موجود ہو
فِعْلاً
فعل یا عمل کی رو سے، عملاً، عملی طور پر
مُتَفاعِلُن
(عروض) بحروں کے بنیادی ارکان میں سے ایک رکن
مُسْتَفْعِلُن
(عروض) شعر کی تقطیع کے لیے وضع کردہ بحر کے ایک رکن کا نام
مَفاعَلَت
(عروض) اشعار کے مقررہ اوزان میں سے ایک وزن ۔
مَفاعِلُن
(عروض) رک : بحرہزج مثمن مقبوض کا وزن ، مفاعیلن جس میں ’’ی‘‘ خذف ہو گئی ۔
مَفاعَلَہ
(عروض) شاعری کی بحر کا ایک وزن ۔
مَفاعِیل
(قواعد) جمع کثرت کا ایک قیاسی وزن (جیسے مفاتیح جمع مفتاح) نیز (عروض) بحر کا ایک وزن ۔
مَفاعِیلُن
اشعار کے اوزان میں سے ایک وزن نیز ایک رکن جس سے بحر ہزج ترکیب پاتی ہے نیز بحر طویل کا دوسرا اور بحر مضارع کا پہلا اور تیسرا رکن
مُفتَعِلاتُن
(عروض) مصرعے کی تقطیع کے لیے عربی قاعدے کے مطابق وضع کردہ ایک وزن جو آٹھ ارکان پر مشتمل ہے ۔
مُفتَعِلُن
(عروض) مصرعے کی تقطیع کے لیے وضع کردہ ارکان ششگانہ پر مشتمل ایک وزن ۔
مِفعال
(قواعد) اسم آلہ کے لیے رائج عربی الاصل دو اوزان میں سے ایک وزن ۔
مَفعُولُن
(عروض) شعر کے ایک وزن کا نام جو بنیادی وزن مفاعیلن سے ماخوذ ہے ۔
مَفعُولِیَّت
مفعول کی حالت و کیفیت، مفعول ہونا، مفعول پن
مَفعُولِیَّہ
مفعول (رک) سے متعلق یا منسوب ، مفعول والا ۔