سائِیسی عِلْم دَرِیا ہے
کسی علم میں مہارت حاصل کرنا آسان نہیں کہ ہر علم پر علم غیر معمولی وسعت و گہرائی رکھتا ہے حتیٰ کہ سائیسی کا علم جسے عموماً بہت ادنیٰ سمجھا جاتا ہے اس پر بھی کلی مہارت بہت دشوار ہے، علم کی اہمیت کے اعتراف میں کہتے ہیں
سانچ کو آنچ
سچ بے ضرر ہے ، سچ بولنے والا نُقصان نہیں اُٹھاتا.
صاف رَہ، بے باک رَہ
دیانت دار آدمی کو کسی کا خوف نہیں ہوتا ، جس کا حساب کتاب ٹھیک ہو اسے کسی کا ڈر نہیں ہوتا.
ساہُو بَٹے وہ بھی ساہ
جو اصل قیمت پر بیچے وہ بھی سوداگر ہے ، مال روکے رکھنے سے قیمتِ خرید پر بیچنا بہتر ہے.
ساجھے کی ہولی سَب سے بَھلی
بہت سے آدمی مِل جائیں تو ہولی اچھے طور پر گُزرتی ہے تہوار یا خوشی کا مزہ اِتَّفاق اور اِتَّحاد ہی سے حاصل ہوتا ہے
ساجھے کی ماں گَنگا نَہ پاوے
ہندوؤں میں بیٹے کا فرض ہے کہ والدین کا کریا کرم کریں لیکن جہاں بہت بیٹے ہوں وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہتے ہیں اور ماں کریا کرم سے رو جاتی ہے یہ کہ شرکت میں نقصان رہتاہے.
ساکھ لاکھ سے اَچّھی
اچھی شہرت و نیک نامی ، دولت سے بہتر ہے ، غریب جس کی ساکھ ہو بے اعتبار امیر سے اچّھا ہے
سان٘بَھرجائے ، اَلونا کھائے
ایسی جگہ رہے جہاں کوئی چیز عام ہو اور نہ مِلے . اس شکص پر فقرہ ہے جو افراط کی جگہ رہ کر بھی اُس چیز سے محروم رہے جس کی افراط تھی (سانبھر - ایک جھیل جس سے نمک بناتے ہیں).
ساس چھوٹی، بَہُو بڑی
جوان لڑکا اور بہو کے رہتے ہوئے جب کوئی شخص ایک چھوٹی لڑکی سے دوسری شادی کرے تب کہتے ہیں
ساس کے آگے بَہُو کی بَڑائی
بے موقع نامناسب بات ، ایسی بات کرنا ، جو دوسرے کو ناگوار گُزرے جیسے ساس کے سامنے بہو کی بُرائی کرو تو خوش ہوتی ہے
ساتھ سو ، پیٹ کا دُکھ
عورت مرد اگر اِکھٹے سوئیں تو عورت حاملہ ہو ہی جاتی ہے اور حمل کی تکلیف اُٹھانی پڑتی ہے.
ساوَن کے اَنْدھے کو ہَر طَرَف سَبْزَہ نَظَر آتا ہے
ہر شخص اپنے حال کے موافق سب کو سمجھتا ہے، جو کیفیت نظر میں سما جاتی ہے وہی کیفیت ہمیشہ پیشِ نظر رہتی ہے (چونکہ ساون کا مہینہ عین بارش کا ہوتا ہے اور روئیدگی خوب زوروں پر ہوتی ہے پس جو شخص اس مہینے میں اندھا ہوتا ہے وہ یہی سمجھتا رہتا ہے کہ ہر طرف بدستور سبزہ ہوگا)
سَب دھان بائِیس پَسیری
سبکے ساتھ یکساں سلوک ، مکمل عدل و مساوات اور اچھے بُرے کی تمیز نہ ہونے کے موقع پر کہتے ہیں.
سَب دھان بارَ پَنْسیری
سبکے ساتھ یکساں سلوک ، مکمل عدل و مساوات اور اچھے بُرے کی تمیز نہ ہونے کے موقع پر کہتے ہیں.
سَب دھان بارَہ پَسیری
سبکے ساتھ یکساں سلوک ، مکمل عدل و مساوات اور اچھے بُرے کی تمیز نہ ہونے کے موقع پر کہتے ہیں.
سَب دھان باوَن پَسیری
سبکے ساتھ یکساں سلوک ، مکمل عدل و مساوات اور اچھے بُرے کی تمیز نہ ہونے کے موقع پر کہتے ہیں.
سَحَر کا بُھولا شام آیا
اگر کوئی شخص کسی قسم کی غلطی یا جُرم کرنے کے بعد، جلد اس کام سے توبہ کر لے اور سُدھر جائے تو کہتے ہیں
سَحَری کھائے سو روزَہ رَکھے
ایک شخص کی سحری کتّا کھا گیا، اس نے اسے سارا دن بھوکا باندھ رکھا کہ اس نے سحری کھائی ہے وہی روزہ رکھے گا یعنی جو فائدہ اٹھائے وہی کام کرے
سَخی سُوم سال بَھر میں بَرابَر ہو جاتے ہَیں
فیّاض اور دریا دل آدمی کا بخشش و سخاوت کے ذریعے اور بخیل آدمی کا بے جا صرف کے باعث سال بھر میں حساب برابر ہو جاتا ہے ، فیّاض آدمی کا مال صحیح جگہ صرف ہوتا ہے اور بخیل کا غلط جگہ.
سَمْدَھن کا تَکْلا چُبھ چُبھ جا، چوری کا لَپْکا کَبھی نَہ جا
انسان کو جب کوئی بُری عادت پڑ جاتی ہے تو چاہے اس کی وجہ سے کیسی ہی ذلت یا تکلیف ہو وہ عادت کبھی نہیں جاتی. چوری کی عادی ایک عورت نے اپنی سمدھن کے گھر سے چرخے کا تکلا چُرا کر اپنے نیفے میں رکھ لیا ، وہ تکلا چبھ چبھ جاتا تھا جس سے وہ بیکل تھی اور بار بار کہتی سمدھن کا تکلا چُبھ چُبھ جا. میرے ہاتھ کا لپکا کبھی نہ جا.
سَمْدَھن کا تَکْلا چُبھ چُبھ جا، ہاتھ کا لَپْکا کَبھی نَہ جا
انسان کو جب کوئی بُری عادت پڑ جاتی ہے تو چاہے اس کی وجہ سے کیسی ہی ذلت یا تکلیف ہو وہ عادت کبھی نہیں جاتی. چوری کی عادی ایک عورت نے اپنی سمدھن کے گھر سے چرخے کا تکلا چُرا کر اپنے نیفے میں رکھ لیا ، وہ تکلا چبھ چبھ جاتا تھا جس سے وہ بیکل تھی اور بار بار کہتی سمدھن کا تکلا چُبھ چُبھ جا. میرے ہاتھ کا لپکا کبھی نہ جا.
سَمْدَھن کا تَکْوا چُبھ چُبھ جا، ہاتھ کا لَپْکا کَبھی نَہ جا
انسان کو جب کوئی بُری عادت پڑ جاتی ہے تو چاہے اس کی وجہ سے کیسی ہی ذلت یا تکلیف ہو وہ عادت کبھی نہیں جاتی. چوری کی عادی ایک عورت نے اپنی سمدھن کے گھر سے چرخے کا تکلا چُرا کر اپنے نیفے میں رکھ لیا ، وہ تکلا چبھ چبھ جاتا تھا جس سے وہ بیکل تھی اور بار بار کہتی سمدھن کا تکلا چُبھ چُبھ جا. میرے ہاتھ کا لپکا کبھی نہ جا.
سَر پَر جُوتی، ہاتھ میں روٹی
کھانے کو مِل جائے خواہ بے عِزّتی ہی کیوں نہ ہو، بے غیرت کو بےعِزّتی کی پروا نہیں ہوتی، وہ فائدہ سے کام رکھتا ہے.
سَر سَلامَت تو پَگڑی پَچاس
جیتے رہے تو بہت کچھ مِل رہے گا زندگی چاہیے ساز و سامان بھی مِل جائے گا ایسے موقع پر کہتے ہیں جس کسی کو جان بچانے کے لیے آن گن٘وانی پڑے
سَر سے سَرواہا
سر کے ساتھ پگڑی ہے، سردار کے ساتھ فوج ہے (ذمہ داری کے اظہار کے موقع پر مستعمل)
سَروہی باندھے تو دو
جو چیز کسی کے لیے اِتنی ضروری ہو جتنی کہ سپاہی کے لیے میدانِ جن٘گ میں تلوار تو اسے وہ چیز بوقتِ ضرورت کام آنے کے لیے ایک کی جگہ دو رکھنا چاہیے (چونکہ سروہی اپنے لوہے کی خوبی کے سبب ۔۔۔ جھٹکے سے ٹوٹ جاتی ہے اس لیے یہ کہاوت بنی ۔
سَو بُھوتوں کی ڈھیری ہے
عام لوگوں کی سیکڑوں تدبیروں سے خاص لوگوں کی ایک تدبیر بہر ہے ، بہت سے شریکوں کی چیز ہے جس میں سے ہر ایک شریک ہے.
سَو دُشْمَن ، سَو دوسْت
غافل نہ رہنے کی تاکید کے لیے بولتے ہیں ، انسان کو بروقت احتیاط لازم ہے کیونکہ دوستوں کے علاوہ دشمن بھی ہوتے ہیں.
سَو حِیلے ہزار بَہانے
کام نہ کرنے والے کے لیے ہر طرح اِنکار ممکن ہے، کام نہ کرنے والے بہت سے حیلے تلاش لیتے ہیں
سو سیانے ایک مت
جتنے دانا ہوں گے سب کی رائے ایک ہوگی عقلمندوں میں اتفاق رائے ہوتا ہے ایک دُوسرے کی تائید کرتے ہیں
سَو سُنار کی ایک لُہار کی
کمزور کی سو ضربوں پر زبردست کی ایک ضرب بھاری رہتی ہے، کار برآری کے لئے زور سے زیادہ ہنر یا تدبر درکار ہوتا ہے
سَوکَن تو چُون کی بھی بُری
سوت چاہے کیسی ہی ناچیر اور کمتر ہو ، بہرحال گوارا نہیں ، نہ جانے کس وقت نقصان پہن٘چا دے ، حریف بہرصورت حریف ہے۔
سَوکَن تو چوُنی کی بھی بُری
سوت چاہے کیسی ہی ناچیر اور کمتر ہو ، بہرحال گوارا نہیں ، نہ جانے کس وقت نقصان پہن٘چا دے ، حریف بہرصورت حریف ہے۔
سَوت بَھلی سَوتیلا بُرا
سوت کی بہ نسبت اس کی اولاد زیادہ دُشمنی کا برتاؤ کرتی ہے ؛ ساجھی کی بہ نسبت اس کے اہل کار اور مصاحب زیادہ ستاتے ہیں .
سَوت چُون کی بھی بُری
سوکن کِتنی ہی حقیر اور کمزور کیوں نہ ہو برداشت نہیں کی جاسکتی یا یہ کہ کبھی نہ کبھی نقصان پہن٘چا ہی دیتی ہے ، (گاہے حریف کے لیے اسی مفہوم میں مُستعمل).
سَوت پَر سَوت اَور جَلاپا
ایک دُشمن کے ہوتے دُوسرا دُشمن اور بھی مُصیبت ہے دوسری سوکن آتی ہے تو جلن اور بڑھ جاتی ہے (دُشمنوں کی کثرت کے موقع پر مستعمل) .
سوال دیگر جواب دیگر
جب کوئی شخص سوال کے جواب میں ایسی بات کہے جو سوال سے تعلق نہ رکھتی ہو تو کہتے ہیں، فضول جواب
سیر کو سَوا سیر
زبردست کے لیے اس سے زیادہ زبردست موجود ہے، ایک سے بڑھ کر ایک، ہر فرعونے را موسیٰ
شَرْمائی بِلّی کَھمبا نوچے
شرمندہ ہوکر آدمی فضول باتیں کرتا ہے، جسے غصہ آرہا ہو وہ دوسروں پر اپنی جھلاہٹ اتارتا ہے، بےبسی میں آدمی دوسروں پر غصّہ اتارتا ہے، شرمندہ شخص دوسروں پر اپنی شرمندگی اتارتا ہے
شیخی بَغَل میں
جب کوئی برخود غلط آدمی نقصان اٹھائے تو کہتے ہیں کہ چلو شیخی تو بغل میں ہے
شیخی کا مُنہ کالا
شیخی باز کو شرمندگی اُٹھانی پڑتی ہے یا شیخی باز کو نیچا دیکھنا پڑتا ہے
شِکار کارِ بیکاراں اَسْت
(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) بیکار آدمی شکار کے لیے جنگلوں میں مارا مارا پھرتا ہے ؛ شکار بیکاروں کا کام ہے
شِکاری شِکار کَریں اَحْمَق ساتھ پِھریں
اس کے متعلق کہتے ہیں جو دوسروں کے ساتھ خواہ مخواہ مارا مارا پھرتا ہے ، جب کام والے لوگوں کے ساتھ بیکار لوگ اپنا وقت خراب کرنے کے لیے ساتھ ہو لیتے ہیں تو ایسے موقع پر بولتے ہیں
شِکاری شِکار کَریں چُوتِیا ساتھ پِھریں
اس کے متعلق کہتے ہیں جو دوسروں کے ساتھ خواہ مخواہ مارا مارا پھرتا ہے ، جب کام والے لوگوں کے ساتھ بیکار لوگ اپنا وقت خراب کرنے کے لیے ساتھ ہو لیتے ہیں تو ایسے موقع پر بولتے ہیں
شَنِیدَہ کے بُوَد مانِند دِیدَہ
فارسی کہاوت اردو میں مستعمل ، جو کچھ دیکھا ہو اس کے مقابلے میں سنی ہوئی بات کا اعتبار کیوں کر ہو سکتا ہے کہاں آنکھوں دیکھی اور کہاں سنی سنائی بات
سِیدھا گَھر خُدا کا
اس شخص کی نسبت بولنے ہیں جو آخر کار ہر مصبیت میں بار بار خدا کو یاد کرتا ہے ، سر جھکا کر خدا کو یاد کرنے میں نجات جانتا ہے یا بار بار کسی کے پاس مدد کے لیے جاتا ہے .
سِتارَہ بھاری ہونا
(ہیئت) ازروئے نجوم کسی ستارے کا کسی دوسرے ستارے کی نسبت کسی شخص کے لیے منحوس ہونا ، نحوست کا زمانہ آنا
سِوَیّاں بِن عِیْد کَیسی
خوشی ہی کی تقریب میں خوشی اچھی معلوم ہوتی ہے ، خوشی کی تقریب بغیر پکوان کے پھیکی معلوم ہوتی ہے.
سوہےکی رِیت نَہِیں کی تَوفِیق نَہِیں
بہت غریب ہے جب کوئی شخص کسی تقریب کے پُورا کرنے کی حیثیت نہ رکھتا ہو اُس کے متعلق کہتے ہیں. وضع کا لحاظ مگر حیثیت کے مطابق کام کرنے کی اِستطاعت نہیں.
سونا جانے کَسے اَور آدمی جانے بَسے
سونے کی پہچان کسوٹی پر پرکھنے سے اور آدمی کی پہچان پاس رہنے سے ہوتی ہے ؛ حقیقت تجربے ہی سے معلوم ہوتی ہے، کھوٹے کھرے کا پرکھنے سے پتہ چلتا ہے.
سونا پَہَن ڈھانک چَل
امیری ، مالداری ، دولت مندی پر اِترانا نہیں چاہیے ، مال و دولت پر غرور اچھا نہیں ہوتا .
سونا سُنار کا اَبھرَن سَنْسار کی
سُناروں کی خیانت کاری کے لیے یہ کہاوت ہے کھوٹ مِلاوٹ کٹوتی اِن کی عادت ہوتی ہے ، لوگوں کو خوش کر کے اپنا مطلب نِکالنا ، روغنِ فاز مل کر لوگوں کا مال مارنا ، مکر وفریب سے کام لینا .
سونا سُنار کا سوبھا سَنْسار کی
سُناروں کی خیانت کاری کے لیے یہ کہاوت ہے کھوٹ مِلاوٹ کٹوتی اِن کی عادت ہوتی ہے ، لوگوں کو خوش کر کے اپنا مطلب نِکالنا ، روغنِ فاز مل کر لوگوں کا مال مارنا ، مکر وفریب سے کام لینا .
سونے کی چڑ٘یا ہاتھ لَگی ہے
امیر آدمی قابُو میں آیا ہے، وکیل اس موقع پر بولتے ہیں جب کوئی امیر مقدمے میں پھن٘س جائے، رنڈیاں اس وقت بولتی ہیں جب کوئی امیر آدمی ان پر شیدا ہو جائے اور برہمن جب کوئی امیر آدمی مرجائے تو کہتے ہیں
سونے میں سُہاگَہ موتِیوں میں دھاگَہ
زِینت اور جلا کا باعث، سونے کے رن٘گت سہاگے سے کِھلتی اور موتیوں کی بہار تاگے میں پرونے سے معلوم ہوتی ہے، کھرے اِیمان دار اور امین مُلازم کی نِسبت بھی بولتے ہیں، تیر بہدف کے موقع پر بھی کہتے ہیں
سونے سے گَھڑاوَن مَہْنگی
اصل قیمت سے بالائی خرچ زیادہ، اتنے کا مال نہیں جتنے درستی وغیرہ میں صرف ہو گئے، دمڑی کی بڑھیا ٹکا سر منڈوائی
سویا مویا بَرابَر ہے
نِین٘د اور موت میں کوئی فرق نہیں دونوں حالتوں میں انسان بے خبر رہتا ہے ، سخت غفلت اور بے خبری کے موقع پر مُستعمل.
سویا مُوا بَرابَر ہے
نِین٘د اور موت میں کوئی فرق نہیں دونوں حالتوں میں انسان بے خبر رہتا ہے ، سخت غفلت اور بے خبری کے موقع پر مُستعمل.
سویا سو چُوکا، جاگا سو پایا
جس نے غفلت کی اُس نے نُقصان اُٹھایا ، جو ہوشیار رہا وہ فائدہ میں رہا ، سوتے کی کُٹیا کا جاگتے کا کٹرا ، بہرحال سعی اور کوشش سے راحت مِلتی ہے ، غفلت بُری ، ہوشیاری اچّھی.
سُہاگن کا لڑکا پچھواڑے کھیلتا ہے
جب کسی سُہاگن کا بچّہ مر جاتا ہے تو یہ کہاوت کہتے ہیں کیونکہ شوہر زندہ ہونے کی وجہ سے دُوسرا بچّہ پیدا ہونے کی توقع ہوتی ہے اس لیے جو بچّہ مرے گا اس کو ایسا سمجھو کہ پچھواڑے کھیل رہا ہے تھوڑی دیر میں آ جائے گا
سُہاتے کی لات اَن سُہاتے کی بات
جہاں کچھ ملنے کی امید ہو وہاں گالی بھی سہہ لے لیکن جہاں کچھ حاصل نہ ہو وہاں معمولی سی بات سے بھی ناراض ہو اٹھے تب بھی کہتے ہیں
سُخَن اَز سُخَن می خیزَد
(فارسی کہاوت اُردو میں مُستعمل) بات سے بات نِکلتی ہے ، سلسلۂ گفتگو میں کوئی نئی بات ظاہر ہوتی ہے.
سُخَن شُنِیدَن بیخِ دَولَت
(فارسی کہاوت اردو میں مُستعمل) بات سُننا حکومت کی جڑ ہے فریاد کو سُننا شاہوں کا وطیرہ ہے ، نصیحت سننے والا فائدہ میں رہتا ہے.
سُنار کی کُھٹالی اَور دَرْزی کے بَنْد
ٹال مٹول کرنے والے کی نِسبت بولتے ہیں (سُنار کہتا ہے کہ بس زیور کو کٹھالی میں ڈالنا باقی ہے اور درزی کہتا ہے کہ کپڑے میں بند لگانے باقی ہیں ، خواہ مخواہ کی بہانہ تراشی) .
سُر میں اَللہ بَسے
گانے میں خدا رہتا ہے ، گانا بہت عجیب چیز ہے اچھے گانے سے دل حق کی طرف مائل ہوتا ہے
سُونا گَھر بھڑوں کا راج
جب کوئی لائق نہ ہو تو نالائقوں کی بن آتی ہے یعنی جب کوئی سردار نہ ہو تو بد ذاتوں کا زور ہوتا ہے
سُوا چھیدے ٹاٹ کو تو پَہلے آپ کو چِھدائے
پہلے سُوئی یا سُوئی کے سِرے پر چھید کیا جاتا ہے (یعنی ناکا بنایا جاتا ہے) ، نیت کے مُطابق پہلے ہی سے نظر آنے لگتا ہے. ایسے موقع پر کہتے ہیں جب کسی کو آزاد دینے کے لیے کوئی پہلے خود کو آزار دینا گوارا کرے .