نَہ دیکھا چور باپ بَرابَر
بغیر دیکھے کسی پر الزام نہ لگانا چاہیے ،کسی کو موردِ الزام نہ کرنا چاہیے ، جسے جرم کرتے نہ دیکھا ہو وہ نیک ہے
نَہ ہر کہ چَہرَہ بَر اَفروخت، دِل بَری دانَد
(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) ہر شخص جو اپنا چہرہ چمکائے ، دلبری نہیں جانتا ، کسی باکمال کی سی شکل بنا لینا آسان ہے مگر کمال پیدا کرنا مشکل ہے ، خوبصورتی اور چیز ہے ناز و ادا و کرشمہ اور چیز ہے
نَہ کارے، نَہ مَسئَلے
۔(ف) بیکار ۔نکمّا کی جگہ۔ غرضکہ سرتاپا فضول نہ کچھ حاصل نہ وصول نہ کارے نہ مثلے۔ آخر تم کس مرض ک دوا ہو۔
نَہ کَرنا
کسی کی وعدہ خلافی کے موقع پر کہتے ہیں
نَہ میں دُوں، نَہ خُدا دے
جو شخص نہایت حاسد اور بخیل ہوتا ہے اس کی نسبت بولتے ہیں یعنی یہ شخص ایسا حاسد ہے کہ نہ تو خود ہی کچھ دیتا ہے اور نہ خدا ہی کا دینا گوارا کرتا ہے
نَہ نِگلے بَنْتی ہے، نَہ اُگلے
دونوں طرح خرابی ہے اِدھر کنواں اُدھر کھائی نہ کرتے بن آئی ہے نہ چھوڑے ہی ، اس وقت کہتے ہیں جب کسی کام کے کرنے اور نہ کرنے دونوں صورتوں میں دقت ہو
نئے نواب آسمان پر دماغ
اس نئے دولتمند کے متعلق کہتے ہیں جو بہت غرور کرے، جو دولت میں اتراتا ہو، نو دولت کا دماغ خراب ہوتا ہے
نئی فوجداری اور مرغی پر نَقّارہ
اس شخص کے متعلق کہتے ہیں جو اختیارات ملنے پر نئے نئے قواعد جاری کرے، ایسے نودولت کے متعلق کہتے ہیں جو عجیب باتیں اختیار کرلے
نَئِی نائِن بانْس کی نَہَرنی
جب کوئی شخص کسی کام کو سیکھنا شروع کرے اور سامان درست نہ ہو نیز بے تمیز اور بڑے اِترانے والے کی نسبت بھی بولتے ہیں
نَنگی کیا نَہائے، کیا نِچوڑے
مفلس اگر حوصلے والا بھی ہو تو کیا خرچ کرے گا ؛ اُس وقت کہتے ہیں جب کوئی بے سر و سامانی یا مفلسی میں کسی بات کی جرأت یا کسی کام کی ہمت کرے ۔
نا کَردَہ اَرمان و کَردَہ پَشیمان
(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) ۔ جنھوں نے نہیں کیا ان کو ارمان ہے اور جو کر چکے ہیں پچھتاتے ہیں اس کام کے لیے کہتے ہیں جس کا کرنے والا پچھتائے اور نہ کرنے والا اس کی تمنا کرے
نا کَردَہ خوار ، کَردَہ پَشیمان
(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) اس وقت بولتے ہیں جب کسی کام کے نہ کرنے میں ذلت ہو اور کرنے میں پچھتانا پڑے کہ ہائے ہم نے یہ کام کیوں کیا ۔
ناچ نَہ جانوں آنْگَن ٹیڑھا
۔ مثل۔ اس جگہ بولتے ہیں جب کوئی شخص کسی کام میں مداخلتنہ رکھنے کی وجہ سے حیلے بہانے کرے۔ یا اس سے کوئی کام نہ ہوسکے اور دوسرے پر الزام رکھے۔ یا کوئی کام اس کو نہ آتا ہو اور اسباب اور آلاب کے بُرا ہونے کی شکایت ےرے۔
نادان بات کرے دانا قیاس کرے
بے وقوف کسی بات کی گہرائی میں جانے کی کوشش نہ کر کے بیکار بحث کیا کرتے ہیں مگر عقلمند بحث نہ کر کے اس پر غور و فکر کرتے ہیں
نادِرتیرے ہَولوں نے مارا
نادر شاہ کے قہر و غضب کی طرف اشارہ ہے جس نے محمد شاہ رنگیلے کے عہد میں دہلی میں قتل عام کرایا تھا اور جس کے خوف و دہشت سے دہلی کی عورتوں کے حمل ساقط ہو جاتے تھے
نَعلَین دَر بَغَلَین
(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) دونوں جوتوں کو بغل میں دباکر رکھنا چاہیے تاکہ کوئی چرا نہ لے ؛ اپنا مال اپنے پاس ، اپنی چیز اپنے قبضے میں ۔
نام بَڑا دَرشَن تھوڑے
جتنا نام ہے اتنا کام نہیں، شہرت کے مطابق سامان نہیں، نمود و نمائش تو بہت کچھ مگر اصلیت کچھ نہیں
نام بڑا یا دام
نیک نامی دولت سے بہتر ہے، عزت روپے پیسے سے بڑھ کر ہوتی ہے، نیک نامی کے لئے دولت کی پروا نہ کرنے کی ترغیب کے لئے کہا جاتا ہے
ناپے سَو گَز پھاڑے نَہ ایک گَز
اس شخص کی مذمت میں مستعمل ہے جو دریا دلی کا صرف مظاہرہ کرتا ہے دیتا دلاتا کچھ نہیں یعنی بہت کنجوس ہے ، زبانی جمع خرچ بہت ہے ہاتھ سے کچھ نہیں دیتا
ناؤ کِس گھاٹ لَگے گی
ایسے معاملے کی نسبت مستعمل جس کا انجام معلوم نہ ہو ، دیکھیے کیا انجام ہوتا ہے (یہ کے ساتھ مستعمل) ۔
نَفع میں دو جُوتِیاں
اس موقع پر کہتے ہیں جب تھوڑی سی چیز کی لالچ میں بہت سی قیمتی چیزیں ہاتھ سے چلی جائیں
نَہاری میں نَمدے کا ٹُکڑا
کسی عمدہ چیز میں کوئی خراب شے شامل ہوجائے تو اس موقع پر کہتے ہیں ؛ کباب میں ہڈی ؛ جیسی حیثیت ویسا سامان ۔
نَہَد شاخ پُر میوَہ سَر بَر زَمِیں
(فارسی کہاوت اُردو میں مستعمل) پھلوں سے لدی ہوئی ٹہنی زمین پر سر رکھ دیتی ہے، ﷲ تعالیٰ جس کو دولت و عزت دے، اس کو فروتنی اختیار کرنی چاہئے
نَقْلِ کُفر، کُفر نَہ باشَد
(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) ضرورۃً کفر کو دہرانا لائقِ گرفت نہیں ہوتا، غلط بات کو دہرانے والا قصور وار نہیں گردانا جاسکتا، حوالے کے لیے کفر کی نقل کرنے سے ناقل کافر نہیں ہو جاتا
نَصِیحَت بَہ لُقمان آموختَن
(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) لقمان کو نصیحت کرنا یعنی جو شخص کسی بات سے بخوبی واقف ہو اس کے سامنے اس بات کا ذکر اس انداز سے کرنا گویا وہ اس سے بے خبر ہے ؛ فضول کام کرنا
نَو جائے دَس کِھلائے
(عور) عمر ظاہر نہیں ہوتی ، عمر رسیدگی کے باوجود کم عمر لگتی ہے نیز تندرست و توانا ہے ۔
نَو میں نَہ تیرہ میں
(رک : تین میں نہ تیرہ میں) شمار سے باہر ، گنتی سے باہر ، کسی گنتی میں نہیں ، کسی شمار و قطار میں نہیں ، کوئی اہمیت نہیں رکھتا ، بے مصرف ، ناکارہ ، بے وقعت
نَو نَقد نَہ تیرہ اُدھار
قرض کے تیرہ سے نقد کے نو اچھے، جو سردست مل جائے وہ بہتر ہے، بہت ملنے کی امید سے سردست تھوڑا مل جانا ہی بہتر ہے، جو فوراً مل جائے غنیمت ہے
نَو نِدھ بارَہ سِدھ
اس کے متعلق کہتے ہیں جس کی ہر دلی خواہش پوری ہوجائے (جسے خزانوں کے دیوتا کویر کے نو خزانے اور ساری قوتیں حاصل ہو جائیں)
نَوْبَت بَہ اِیْنجا رَسِیْد
یہاں تک نوبت پہنچی، منزل یہاں تک آ گئی، بات یہاں تک پہنچی، یہ وقت آگیا، یہ مرحلہ آگیا، یہ حالت ہو گئی، اس حالت کو پہنچے
نَوکَر کو کیا عُذْر ہے
نوکر کو سوائے اطاعت کے کوئی عذر نہیں ؛ نوکر کوئی عذر نہیں کر سکتا اسے اطاعت کرنی پڑتی ہے (
نَوکَر لاٹْکَپُور کے، ہونْٹ ہِلیں حَق لیں
(بازاری) خلیق آقا کے نوکر خوشامد سے کام نکالتے ہیں ؛ حرام خور نوکر کام نہیں کرتے تنخواہ مانگتے ہیں (لاٹکپور اکبر کے زمانے کا ایک گویّا تھا لوگ اسے یہ کہہ کر روپیہ دیتے
نوکری ارَنڈ کی جڑ ہے
نوکری پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ جس طرح ارنڈ کی جڑ کمزور اور بودی ہوتی ہے اسی طرح نوکری کو بھی کچھ قیام نہیں
نَوکَری بَڑی کِیمِیا ہے
کیمیا تو بن جانے ہی پر فائدہ دیتی ہے، لیکن نوکری کا فائدہ سوتے جاگتے ہر وقت رہتا ہے، نوکری بڑی فائدہ مند چیز ہے
نَوکَری خالَہ جی کا گَھر نَہِیں
نوکری میں آرام طلبی نہیں چلتی، نوکری کچھ گھر کی بات نہیں ہے کہ جی میں آیا کیا، نہ جی میں آیا نہ کیا، نوکری میں پابندی ضروری ہے، نوکری آسان کام نہیں اس میں پابندی بہت ضروری ہوتی ہے
نوکری نِت نئی
یہ کہاوت اس مالک کے متعلق بھی کہتے ہیں جو اُلٹے پلٹے حکم دے، کب نیا مالک آ جائے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں
نیا نو دن پرانا سو دن
نئے کی نسبت پرانے کا زیادہ اعتبار ہوتا ہے، نئی چیز کی بھڑک چند روز ہوتی ہے اور پرانی چیز مدت تک رہتی ہے
نَزلَہ بَر عُضوِ ضَعِیف
(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) مصیبت ہمیشہ کمزور پر آتی ہے، کم زور ہی عتاب کی زد میں آتا ہے، غصہ کمزور ہی پر نکالا جاتا ہے
نیک بات کا پُوچھنا کیا
اس موقع پر کہتے ہیں جب کوئی کسی سے بھلائی کرنے کے لیے پوچھے ، نیک بات میں صلاح مشورہ کرنے کی ضرورت نہیں
نیکی ہی رہ جاتی ہے
آدمی نیکی کے سبب ہی یاد کیا جاتا ہے، انسان مر جاتا ہے مگر اس کے اچھے کام زندہ رہتے ہیں
نیکی کَر دَریا میں ڈال
نیکی کرکے بھول جانا، احسان کرکے بھلا دینا، بھلائی کر اور صلے کی اُمید نہ رکھ (جس نیکی کا کچھ عوض نہ ملے یا بے فائدہ ہو اس کی نسبت کہتے ہیں)
نیکی کَر کُوئیں میں ڈال
نیکی کرکے بھلا دینا چاہیے ، صلے کی اُمید نہیں رکھنی چاہیے (جس نیکی کے عوض کچھ نہ ملے اس کی نسبت کہتے ہیں)
نیکی کی جڑ پتّال میں
نیکی ہمیشہ پھولتی اور پھلتی ہے، نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی یعنی اس کا پھل ہمیشہ ملتا رہتا ہے
نیک نام بَنِیا بد نام چور
بنیا نیک نامی حاصل کر سکتا ہے مگر چور ہمیشہ بدنام رہتا ہے، بنیے کی ساکھ ہوتی ہے مگر چور کی ساکھ نہیں ہوتی
نِبڑا آٹا سَٹکا بُوچا
رک : آٹا نبڑا الخ ، کھانا ختم ہوتے ہی خوشامدی لوگ اپنی راہ پکڑتے ہیں اور ساتھ چھوڑ دیتے ہیں ۔
نِیچی بیری سَب کوئی جَھوڑے
بیری جو بلند نہ ہو اس پر ہر کسی کا ہاتھ پہنچ جاتا ہے اور وہ بیر توڑ لیتا ہے ؛ جب کسی چیز سے ہر کوئی فائدہ اٹھائے تو یہ مثل کہتے ہیں ۔
نِیْم مُلَّا خَطرَۂ اِیْمان
نیم حکیم خطرۂ جان نیم ملا خطرۂ ایمان، ناتجربہ کار سے کام بگڑ جانے کا خدشہ رہتا ہے، جب کوئی کم علم اپنے علم کا اپنے انداز میں اظہار کرتا ہے تو کہتے ہیں
نکلی تو گھونگٹ کیا
جب پردے سے باہر ہوئی تو پھر گھونگٹ کا کیا نکالنا، بے شرم کے متعلق کہتے ہیں
نِنّانویں
ترتیب کے لحاظ سے اٹھانوے کے بعد کا اور سو سے پہلے کا (عدد) ، ننانوے ۔
نِشَسْتَنْد و گُفْتَنْد و بَرْخاسْتَنْد
(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) بیٹھے ، باتیں کیںاور محفل برخاست ؛ ایسے جلسے یا گفتگو کے متعلق کہتے ہیں جس میں کوئی نتیجہ نہ نکلے ؛ وقت ضائع کرنا ، کچھ نہ کرنا ۔
نوش بے نیش حاصل نمی شود
(فارسی کہاوت اُردو میں مستعمل) شہد بغیر ڈنک کھائے ہوئے ہاتھ نہیں آتا، کوئی اچھی چیز بغیر محنت کے نہیں ملتی